parallax background

تاریخ مجلس و جلوس ، تعزیہ

February 21, 2017
Gilani Syeds
February 21, 2017
February 22, 2017

Documentary For SAMAA TV

 
خواجہ خواجگان حضرت معين الدين چشتي اجميري کا ارشاد گرامي ہے ۔

شاہ است حسين، بادشاہ است حسين
دين است حسين، دين پناہ است حسين
سرداد ، نہ داد ، دست دردست يزيد
حقا کہ بنائے لا الہ ، است حسين!

حکيم الامت علامہ اقبال نے فرمايا ۔۔۔۔۔۔

اسلام کے دامن ميں بس دوہي توچيزيں ہيں
اک ضرب يداللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اک سجدہ شبيري

اور پھررئيس الاحرارمولانا محمد علي جوہر۔۔۔۔

قتل حسين اصل ميں مرگ يزيد ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

کربلا داستان ہے رنج والم کي ۔۔۔ يہ اہل بيت پرڈھائے جانے والے ان مظالم کا ذکر ہے جو صحرا کي تپتي ريت پرتحريرہوئے ۔۔۔ ليکن ان کي آواز تاابد سنائي ديتي رہے گي ۔۔۔۔
يہ سچ ہے کہ وہ دل ، دل ہي نہيں جس ميں غم حسين نہ ہو ليکن يہ بھي درست ہے کہ واقعہ کربلا يعني61 ہجري بہ مطابق 680 ء سے آج تک کا جائزہ ليا جائے توکوفہ اوردمشق کے ايوان ہائے تشدد اورکربلا سے کوفہ اورکوفہ سے شام تک کي سفا کانہ داستانيں ہر جانب بکھري نظرآئيں گي ۔۔۔۔ اہل بصيرت کو ظلم وستم کے وہ مناظر دکھائي ديں گے جن سے انسانيت کانپ اٹھے اوراہل سماعت کو ايسي دل دوزچيخيں سنائي ديں گي کہ حساس دل ودماغ ان کي تاب نہ لاسکيں ۔۔۔۔ آج آپ جو کچھ ديکھ رہے ہيں يہ درحقيقت انہي نعروں کي بازگشت ہے جو 10 محرم الحرام 61 ہجري يعني صبح عاشورسے عصرتک ميدان کربلا ميں بلند ہوتے رہے ۔۔۔۔ پھروہ ہوا کے دوش پرلہرائے ۔۔۔۔ فضاؤں ميں گونجے ۔۔۔۔ اور وقت کي قيد سے آزاد ہو کر امرہوگئے ۔۔۔۔ سروں پر خاک ڈالے ۔۔۔۔ ہاتھوں سے چھاتيوں کو پيٹتے ۔۔۔۔ اور اپنے جسموں کو خون سے رنگين بناتے۔۔۔۔ يہ غم گسار ۔۔ اپنے تيسرے امام ۔۔۔ اور ان کے مظلوم ساتھيوں کي شہادت پر نوحہ کناں ہيں ۔ حضرت امام حسين اوران کے رفيقوں کي ميدان کربلا ميں شہادت کے غم ميں عشرہ محرم منانے ۔۔۔۔ 10 محرم کو جلوس نکالنے اور ماتم کرنے کي باضابطہ ابتدا ۔۔ اس واقعہ کے 283 سال بعد 963 ء بہ مطابق 352 ہجري ميں بغداد سے ہوئي ۔۔ ان کی سماعتوں میں جلے خيموں کي راکھ پربيٹھي ان سيدانيوں کے بين تھے جوشام غريباں کي بھيانک تاريکي سے شروع ہوئے ليکن آج تک يوں سنائي ديتے ہيں ۔۔ جيسے ابھي ابھي کچھ ہوگزرا ہو۔۔۔ ان آہوں کے درميان کہيں کہيں ايک بچي کي سسکياں بھي سنائي ديتي ہيں جس نے کبھي سنگ دل کوفيوں کے دلوں ميں انقلاب برپا کرديا تھا ۔۔۔۔ اوراگربہ نظرغائرديکھا جائے تو "ماتم حسين" کا مرکز يہي بچي تھي جس نے کربلا کے باب مظلوميت پر مہردوام ثبت گردي ۔۔۔ يہ سکينہ بنت حسين تھي ۔۔۔ 10 محرم الحرام 61 ہجري يعني واقعہ کربلا کے وقت اس کي عمرمکمل 4 سال بھي نہيں تھي اور اس سانحہ کے محض 54 دن بعد ۔۔۔۔ 5 ربيع الاول 61 ہجري کو وہ دمشق کے قيد خانے ميں ابدي نيند سوگئي ۔۔ صبرکي انتہا ديکھيے کہ چچا عباس علم دار کے بازو کٹے توپھراس نے کبھي کسي سے پاني نہيں مانگا ليکن جب شمرکا ہاتھ ظلم کے ليے بڑھا توچچا کو ضرورپکارا ۔۔۔۔ کربلا کي اسيروں ميں زينب کبريٰ ۔۔۔ ام کلثوم ۔۔۔ حضرت زين العابدين اورديگر محترم ومعززخواتين شامل تھيں ۔ اہل بيت کي ساتھي خواتين ميں پھوٹ ڈالنے کے ليے يزيدي امراء نے بہت کوشش کي کہ وہ شہزاديوں کو زندان دمشق ميں تنہا چھوڑديں ليکن وہ ٹس سے مس نہ ہوئيں ۔ حکمران چاہتے تھے کہ يہ عورتيں اپنے قبائل کو ان کے حق ميں ہموارکريں ليکن ان خواتين نے رسول کي نواسيوں کے قدموں پرسررکھنا حکمرانوں سے انعام لينے سے زيادہ قيمتي سمجھا ۔۔۔۔ بلاشبہ ان باعظمت خواتين نے اپنا فرض خوب نبھايا ۔ لوگ کہتے ہيں کہ علي کي بيٹيوں کي زبان اگران کے منہ ميں ہوتي تو وہ بھي شام وکوفہ کے بازارالٹ ديتيں مگرپھر بھي ان سے جو کچھ ہوسکا کيا اورمختلف قبائل کو پيغامات بھجوائے کہ کس طرح ان کے جاں بازوں نے نواسہ رسول پر اپني جانيں نثارکيں ۔۔۔ يوں بچيوں کو ننھي سکينہ جھنجوڑتي اورخواتين ميں زينب وام کلثوم اپنا تعارف کراتيں ۔۔ واقعات کربلا بيان کرتيں اورانہيں رلاتيں ۔۔۔ کہتے ہيں کہ سکينہ درزنداں پرکھڑے ہو کرباپ اورچچا کي محبت کا ذکرکرکے خود بھي روتي رہي اورچھوٹے چھوٹے بچوں کو آبديدہ کرتي ۔۔۔ يہ تھي "مجلس حسين " کي ابتدا ۔۔ جس کي داغ بيل ۔۔ حسين کي چہتي بيٹي نے اپني 54 روزہ باقي ماندہ زندگي ميں ڈالي ۔ اوراگرمجلسوں کي باني ۔ فاطتمہ الزہرہ کي بيٹيوں کو قرارديا جائے تو سکينہ کي فرياد اورآہ وبکا ۔۔ ماتم حسين کي ابتدا ٹھہرتي ہے ۔ تاريخ ہميں بتاتي ہے کہ ۔۔۔ پہلي مجلس عزا ۔۔۔ اہل بيت کي رہائي سے قبل محرم 62 ہجري کے آخري ايام يا صفر62 ہجري کے ابتدائي ايام يعني اکتوبر681 ء ميں زندان شام ميں ہوئي تھي کيونکہ زندان سے رہائي کے بعد اہل بيت 20 صفر 62 ہجري کو واپس کربلا پہنچے تھے ۔ اس کے بعد ربيع الاول 62 ہجري يعني نومبر681 ء ميں جب جابرابن عبداللہ انصاري نے کربلا ميں پہلي بارقبرحسين کي زيارت کا شرف حاصل کيا تو وہاں مجلس عزا برپا ہوئي جسے کربلائے معليٰ کي پہلي مجلس عزا کہا جاتا ہے جبکہ حضرت جابر، قبرحسين کے مجاوراول تھے۔ اہل بيت کا لٹا پٹا قافلہ جب مدينہ پہنچا تو پھرشب و روز مجلس ہي مجلس تھي اورماتم ہي ماتم تھا ۔۔۔ البتہ اب حسين کي لاڈلي بيٹي زندہ نہ تھي ۔۔۔ ليکن اس کي جگہ امام حسین کی بڑی بیٹی ۔۔۔ فاطمہ صغريٰ اورام سلمہ نے لے لي ۔۔ اورخواتين مدينہ ميں جو بھي آيا اس نے ايک شورماتم بلند کيا ۔۔۔ ہائے حسين کي صداؤں ميں کسي کسي وقت ہائے سکينہ کي آواز بھي بلند ہو جاتي تھي ۔ مدينے کے اموي حاکم اسے برداشت نہ کرتے ۔۔ انہوں نے فاطمہ کي بيٹيوں پرجبرکرنا شروع کرديا کہ ۔۔ ماتم بند کرديں يا مدينہ چھوڑديں ۔۔ کيونکہ يہ ماتم حسين کي وہ ابتدا تھي جس کي تقليد آج بھي ہورہي ہے۔۔ مگرغريب زينب کيا کرتي ۔۔ کہاں جاتي ؟ ليکن 40 روزبعد زينب کے پيروں کي زنجيرٹوٹ گئي جو انہيں مدينے ميں روکے ہوئے تھي ۔۔۔ ام کلثوم اس دنيا سے رخصت ہوگئيں ۔۔۔ اور زينب مدينے سے چل ديں ۔۔۔ ليکن اس سے پہلے وہ ماں کي قبرپرگئيں ۔۔۔ نانا سے رخصت لي ۔۔ بھتيجے کو گلے لگايا اورعزيز واقارب سے مل کر مدينے سے اس طرح نکليں ۔۔ جيسے انسانوں کے جھرمٹ سے کوئي خوداپنا جنازہ لے کرنکلتا ہے ۔ زينب ، کربلا پہنچيں ۔۔ سيد الشہداء اوران کے ساتھي عظيم شہيدوں سے زينب نے کيا کہا اورانہيں کيا جواب ملا ۔۔ اس کا تو علم نہيں ۔۔۔ ليکن کربلا سے چلتے وقت ، زينب نے بھائي کي قبرپرکھڑے ہو کرکہا تھا ۔ " بھيا! دمشق۔۔ جارہي ہوں ۔۔۔ سکينہ ياد کرتي ہوگي!" امويوں نے زينب کو مدينے سے نکالا تھا کہ مجلسيں بند ہوجائيں اورماتم نہ ہوسکے ۔۔ مگرہوا اس کے برعکس ۔۔ کربلا کے شہيدوں ميں ام کلثوم اورزينب کے ناموں کا اضافہ ہوگيا ۔۔ امام زين العابدين ، پورا خانوادہ رسالت اورمحبان آل رسول۔۔ سب اپني اپني جگہوں پر مجلسيں برپا کرنے لگے اورخواتين کے بين ۔۔۔ کسي کے روکے ۔۔۔ رک نہ سکے ۔ دوسري طرف زينب کبريٰ تھيں ۔۔۔ ذکرکربلا ان کے سفرکے ساتھ پھيلتا رہا ۔ کربلا سے دمشق تک جہاں جہاں آپ نے قيام فرمايا ۔۔۔ بني اميہ کے ظلم وستم اوراولاد فاطمہ کي مظلوميت کے چرچے ہونے لگے ۔۔ پہلے صرف زينب خطيب تھيں ۔۔ آہستہ آہستہ ان کي جگہ دوسروں نے لے لي ۔۔ ايک بيان کرتا ۔۔۔ سب سنتے ۔۔ اورشوروگريہ بلند ہوجاتا ۔۔ اس طرح اموي اوران کے جانشيں روکتے رہے ۔۔۔ ليکن يہ مجلسيں پھيلتي رہيں ۔۔۔ اور ان کا سلسلہ آج بھي جاري ہے ۔۔۔۔ سچ کہا ہے کسي نے کہ مظلوميت اپنا اثر دکھائے بغيرنہيں رہتي جو چپ رہے گي زبان خنجر لہو پکارے گا آستيں کا مدينہ کربلا دمشق اورمصرميں تو خود بنت علي کي آواز سنائي ديتي ہے ۔۔۔ اور دوسرے مقامات پرمظلوميت خود اپني سرگزشت بيان کرتي رہي ۔۔ ليکن اس سرگزشت کوآج بھي غورسے سنيں تو لب لہجہ ۔۔۔ زينب وسکينہ کاہي محسوس ہوگا ۔۔ اس طرح سفر کرتے کرتے 14 رجب 62 ہجري بہ مطابق مارچ 683ء کربلا کي يہ شيردل خاتون اس دنيائے فاني سے کوچ کرگئي ۔۔ حسين کي پہلي ذاکرہ تورخصت ہوگئي ليکن اس نے مجلس حسين کا آغاز اس خوش اسلوبي سے کيا کہ اس دورميں بھي اس کا انعقاد ہوتا رہا جب محبان علي نام بدل بدل کربے نام ونشان جگہوں پررہتے تھے ۔۔۔۔ بني اميہ کي حکومت تو واقعہ کربلا کے 71 سال بعد ربيع الثاني 132 ہجري بہ مطابق فروري 749ء ميں ختم ہوگئي ۔ ليکن غم گساران حسين کي سختياں ختم نہ ہوئيں ۔ بنو عباس نے برسراقتدارآکراپنے پيش روؤں کي روايت زندہ رکھي ۔۔۔ ليکن اس کے باوجود ۔۔۔ عشرہ محرم ميں ہرسيداني ۔۔ شمعيں جلا کرفرش ماتم بچھاتي اوراپنے بچوں کوکربلا کے واقعات ضرورسناتي تھي ۔ عباسي خليفہ متوکل نے بڑي حد تک وہي رويہ اپنايا جويزيد کا تھا ۔ اس نے قبر حسين کي زيارت ممنوع قراردے دي اورمزارات کربلا مہندم کرنے کے احکامات دے دئيے ۔ متوکل تويزيد کي طرح ختم ہوگيا ۔ مگرعظمت حسين کم ہوئي نہ مجالس حسين ختم ہوسکيں ۔ غم گساران حسين ۔۔۔ جہاں اورجس حال ميں ہوتے ۔۔۔ عشرہ محرم ميں مجلس برپا کرتے اورغم حسين کے ساتھ ساتھ پيغام حسين کوايک سے دوسري نسل ميں منتقل کرتے ۔۔۔ تيسري صدي ہجري ميں عباسي خلافت کے ايراني وعراقي علاقوں ميں طاہري علوي اورصفاري حکومتيں قائم ہوئيں ۔ عباسيوں کي گرفت چونکہ کمزور پڑچکي تھي اس ليے ان امارتوں ميں مجالس کا رواج بڑھ گيا اور شہادت حسين کا ذکرہونے لگا تاہم عباسي خلفاکے زيراقتدارعلاقوں ميں ماضي کي پابندياں برقراررہيں اورسادات صرف مخصوص جگہوں پرہي اپنے اجداد کا تذکرہ کرتے رہے ۔ چوتھي صدي ہجري کے ابتدائي 50 سال بھي يونہي گزرگئے ۔ حتيٰ کہ بني بويہ يا ديلمي ۔۔ بغداد کے حکمران ہوئے۔ اس خاندان کے عروج کا پہلا مہرہ طبرستان کي حکومت زيديہ کي بساط پر رکھا گيا ۔۔ جو تيسري صدي ہجري کے اواخر ميں اپنے آغا زکے بعد جرجان رے اور کاشان تک پھيل گئي تھي ۔ 320 ہجري کے ماہ محرم يعني جنوري 933ء ميں ديلميوں نے فارس پرقبضہ کرليا جواس وقت خلافت عباسيہ کي عمل داري ميں شامل تھا۔ اس حکومت کے جبروت اور سطوت کا يہ عالم تھا کہ خلفائے بنوعباس عملا اس کے دست نگراورمحکوم تھے۔ کہنے کو وہ عباسي خلفاء کے اميراورامراء تھے مگرحقيقت ميں تھے خليفہ گر۔۔ تمام ملکي، فوجي اورمالي معاملات ۔۔۔ تاجداران بويہ سے متعلق تھے۔ خطبے اورسکے ميں بھي خلفيہ کے ساتھ ان کا نام شامل ہوتا تھا۔ معزالدولہ تيسويں عباسي خليفہ مطيع اللہ کے آغازخلافت پرجمادي الاول 334 ہجري بہ مطابق دسمبر945 ميں بغدادآيا اورپھريہيں کا ہورہا ۔ خليفہ مطيع اللہ ۔۔ خليفہ ہونے کے باوجود اس کا محکوم اور اس کے سامنے مجبورتھا ۔۔ اس کےعہد کي بہت سے خصوصيات ہيں مگر۔۔۔ تبرا کوان ميں اہميت حاصل ہے ۔۔ کہا جاتا ہے کہ ايک صبح جامع مسجد بغداد کے پھاٹک پربعض قابل اعتراض جملے لکھے پائے گئے ۔۔ اگلي رات کسي نے پوري عبارت مٹادي ۔ ليکن معزالدولہ نے يہ عبارت دوبارہ اورسہ بارہ لکھوائي ۔ اس سے اگلے سال يعني محرم الحرام 352 ہجري بہ مطابق جنوري 963ء کو معزالدولہ نے باقاعدہ طورپرغم حسين منانے کا حکم ديا ۔ خليفہ اورعام رعايا اس کے سامنے دم نہ مارسکے سلطان معزالدولہ کے حکم پربغداد کے سارے بازاربند کراديے گيے ۔ نان بائيوں کوروٹي وغيرہ پکانے کي ممانعت کردي گئي ۔ بازار ميں لکڑيوں کے گول ڈھانچے بنوائے گئے اوران پرموٹے کپڑے چڑھاديے گئے ۔ مردوں کے علاوہ خواتين نے بھي ماتم کيا ۔ يہي وہ موقع تھا جب پہلي بارنوحہ خواني اورسوزخواني کي گئي ۔ مورخين 10 محرم الحرام 352 ہجري کے اسي جلوس کو شہدائے کربلا کي ياد ميں نکالا جانے والا پہلا باضابطہ جلوس عزا قرارديتے ہيں ۔۔۔۔ بہ قول الکامل ۔۔۔ شہراورديہات کے لوگ سياہ ماتمي لباس ميں شارع عام پربرآمد ہوئے ۔ يہ تھا بغداد اورعالم اسلام کا پہلا محرم جس کي تقليد ميں آج بھي ہرشہرقصبے اورگاؤں سے جلوس عزا برآمد ہوتا ہے ۔ يہ جلوس چونکہ معزالدولہ کي سرپرستي نکلا تھا اس ليے قياسي طورپرکہا جاسکتا ہے کہ پہلي امام بارگاہ بھي بغداد ميں اسي نے بنوائي ہوگي کيونکہ جلوس عزا ۔۔۔ کہيں سے نکل کر۔۔ کسي مقام پراختتام پذيرضرورہوا ہوگا ۔۔ اورپھروہاں مجلس سيد الشہدا بھي برپا ہوئي ہوگي ۔ اصولا اسي مقام کوامام بارگاہ کا نام ديا جاسکتا ہے ليکن اس کا کوئي تاريخي ثبوت نہيں ملتا اورنہ اس کے بعد کسي فرماں روا کي طرف سے کوئي امام بارگاہ تعميرکيے جانے کا پتا چلتا ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ اس کي وجہ کربلائے معليٰ کي قربت رہي ہو۔ اس کے بعد مراکش پرنگاہ جاتي ہے توعشرہ محرم ميں مسلسل مجالس کےليے کوئي مخصوص عمارت بنائے جانے کا تذکرہ کوئي مورخ نہيں کرتا ۔ سردست جسٹس امیر علی کی کتاب " ہسٹري آف سيرانينز" کے حوالے سے پہلي امام بارگاہ کي تعمير کا شرف فاطمين مصر کے چوتھے خليفہ ابو تميم المعزالدين اللہ کو ديا جاتا ہے جس نے 361 ہجري بہ مطابق 971ء ميں قاہرہ آباد کرتے وقت محلات کے ساتھ مجلسوں کے ليے ايک عليحدہ عمارت بنوائي جسے ہماري زبان ميں امام بارگاہ کے نام سے موسوم کيا جاسکتا ہے ۔ بہرطورسلطان معزالدولہ نے جلوس عزا کے علاوہ ايک اوررسم کي بنياد بھي رکھي ۔ يہ عيد غدير تھی ۔ جہاں تک برصغير پاک وہند کا تعلق ہے تو تحقيق سے نہيں کہا جاسکتا کہ کس مقام پراورکس دورميں جلوس کي ابتدا ہوئي ليکن مجالس کا انعقاد اورامام بارگاہوں کا وجود اميرتيمورصاحب قرآں، جسے برصغير ميں تعزيوں کا باني قرارديا جاتا ہے ، سے بہت پہلے پايا جاتا تھا ۔ ممکن ہے کہ ہندوستان ميں مسلم حکومت کي ابتداء يعني 602 ہجري بہ مطابق 1206 ميں ہي کسي شيعہ امير نے امام بارگاہ بنوائي ہو ليکن يہ تاريخي طور پرثابت نہيں البتہ تغلق عہد يعني 725 ہجري بہ مطابق 1325ء ميں امام بارگاہ کا تصورضرورموجود تھا۔ اورقرين عقل ہے کہ جس مقام پرمستقل مجالس عزا منعقد ہوتي ہوں ۔۔ اسے امام بارگاہ يا امام باڑہ کہہ ديا جاتا ہو۔۔ تب ہي تو سلاطين شرقيہ (جون پور) ہندوستان کے حکمرانوں نے 801 ہجري بہ مطابق 1400 ء ميں جون پورميں قيام سلطنت کے بعد ہي امام باڑے تعمير کرائے ۔۔۔ مختلف علاقوں ميں انہيں عليحدہ عليحدہ نام ديے گئے ۔۔ کہيں يہ عاشورخانہ کہلايا ۔۔ اورکہيں حسين چوک ۔ بعض مورخين نہايت وثوق کے ساتھ برصغيرکو امام بارگاہوں کي جنم بھومي قرارديتے ہيں ليکن يہ درست نہيں ۔۔ البتہ يہ ضرورکہا جاسکتا ہے کہ جون پور۔۔۔ برصغيرپاک وہند کا وہ پہلا شہرتھا جہاں مجلس کےليے بنائي جانے والي عليحدہ جگہ کو امام بارگاہ يا امام باڑے کے نام سے پکارا گيا ۔ ہاں ۔۔۔۔ سرزمين ہندوستان تعزيوں کي جائے پيدائش ضرورہے ۔ جبکہ اس رسم کے آغازکا سہرا اميرتيمورگورگاني، صاحب قرآں کے سر ہے ۔۔ جوشيعہ يا سني ہونا تو درکنار۔۔ مسلمان بھي برائے نام تھا ۔۔ اس کے بارے ميں کہا جاتا ہے کہ اس کے باپ دادا اسلام تو قبول کرچکے تھے مگر خود اس کا تعلق صرف تلوار و تسخير سے تھا ۔۔ تاہم چنگيزخان کي نسل سے تعلق رکھنے والا يہ عظيم فاتح جسے عرف عام ميں تيمورلنگ بھي کہتے ہيں ۔۔ حضرت امام حسين سے بے پناہ عقيدت رکھتا تھا ۔ اسے جب بھ موقع ملتا ۔۔۔ وہ یوم عاشور کربلا میں گزارتا ۔۔۔۔ اس کی عقیدت و محبت کا اندازہ ۔۔۔۔ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ کربلائے معلیٰ میں امام عالی مقام کے روضہ اقد س کا پہلا طلائی گنبد تیمور نے ہی بنوایا تھا ۔۔۔ چنانچہ بعض مورخين نے لکھا ہے کہ معزالدولہ کا شروع کردہ جلوس عزا يقيني طورپراس کي موجودگي ميں بھي برآمد ہوتا ہوگا ۔ جہاں تک تیمور کا تعلق ہے تو اسے ۔۔۔ ايک سيد عالم سے اسے بے پناہ عقيدت تھي اوريہ سيد ، ہرسال تبرک کے طور پراسے کچھ نہ کچھ پيش کرتے تھے ۔ وہ ان تبرکات کو محفوظ رکھتا تھا ۔ جن ميں خاک کربلا سے بني ہوئي ايک ضريح اورايک تسبيح بھي تھي ۔ اس تسبيح کي ايک خاص بات يہ تھي کہ اس کے دانے يوم عاشور کو سرخ ہو جايا کرتے تھے ۔ اميرتيمور801 ہجري بمطابق 1398ء ميں ہندوستان پرحملہ آورہوا اوراسي سال ربيع الثاني يعني دسمبر کے مہينے ميں اس نے دہلي کو تباہ برباد کرديا ۔ اسي وجہ سے 801 ہجري کا محرم اسے سفرميں گزرا ۔ دوسرے سال وہ فتوحات ميں مصروف رہا اورزيارت کےليے کربلائے معليٰ نہ جاسکا ۔ تيسرے سال محرم آنے پراس کے لشکريوں نے مطالبہ کيا کہ کئي برس ہوگئے ہيں زيارت کربلا نہيں کي ۔ خود تيمورکو بھي احساس تھا ۔ چنانچہ وہ سوچنے لگا کہ زيارت کےليے کون سا طريقہ استعمال کيا جائے ۔۔ اچانک اسے روضے کي اس نقل کا خيال آيا جوسيد موصوف نے پيش کي تھي ۔ چنانچہ اس نے وہ ضريح ايک کھلي عماري پررکھوائي ۔۔۔ تسبيح اس کے اوپر ڈالوائي ۔۔۔ اورايک فوجي دستے کے جلوس ميں اسے لشکر ميں گشت کراديا تا کہ لوگ اگرروضہ حضرت امام حسين کي زيارت نہيں کرسکے تو کم ازکم روضے کي نقل کي زيارت ہي کرليں ۔ راويوں کے بقول يہ واقعہ محرم 803 ہجري يعني اگست 1400ء ميں پيش آيا ۔ يہ ہندوستان کي تاريخ عزا کا سنگ بنياد ہے ۔ اس روايت کا کوئي تاريخي ثبوت موجود نہيں ليکن تعزيے کے سلسلے ميں اس کے علاوہ اورکوئي بات سامنے نہيں آتي لہذا اس روايت کو عمومي طورپريقين کا درجہ ديا جاتا ہے اورقرائن وشواہد بھي اس کي تصديق کرتے ہيں کيونکہ تيمورکے جانے کے بعد بھي دلي ميں لوگوں نے شب عاشور۔۔۔ مٹي کي ضريح نکالي ۔۔۔ اوران ميں بيشترسني العقيدہ تھے ۔ اس کے بعد مٹي، کاغذ اورلکڑي کي ضريحوں کا رواج بڑھنے لگا ۔ اميرتيمورچونکہ ضريح کے سامنے باادب کھڑا ہواتھا اس ليے لوگوں نے بھي اس کي تقليد شروع کردي ۔ ہندوستان ميں چونکہ منتيں اورحاجتيں طلب کرنے کا رواج عام تھا اس ليے لوگوں نے روضہ امام حسين کي اس نقل کے سامنے کھڑے ہوکراپني حاجتيں بيان کرنا شروع کرديں ۔۔ وہ پوري ہونے لگيں تو مسلمانوں کي پيروي ميں ہندو بھي ضريحيں نکالنے لگے اورپھرآہستہ آہستہ اس ضريح نے تعزيے کي شکل اختيارکرلي ۔ ايک مخصوص شکل کے تعزيے کو آج بھي تيموري تعزيہ کہا جاتا ہے لہذا بعض محققين کا خيال ہے کہ شايد يہ تعزيہ پہلي بار امير تيمورکے قيام ہندوستان کے دوران بنا ہو۔ بہرطوريہ طے ہے کہ تعزيے کا باني اميرتيمورتھا اوردلي وہ سب سے پہلا شہرتھا جہاں اس تعزيے کوگشت کرايا گيا البتہ بعض مورخین کے مطابق دہلی میں یوم عاشور کا پہلا باقاعدہ جلوس پہلے مغل شہنشاہ ظہیر الدین محمد بابر کے دور میں برآمد ہوا ۔۔۔۔ وہ علاقہ جسے اب پاکستان کہا جاتا ہے ۔۔۔۔ یہاں یوم عاشور پر سب سے پہلی شبیہہ جہلم کے قریب واقع قلعہ روہتاس سے نکالی گئی ۔۔۔ تواریخ میں ہے کہ دوسرا مغل شہنشاہ نصیرالدین محمد ہمایوں قلعہ روہتاس میں مقیم تھا کہ محرم کا چاند نظر آگیا ۔۔۔ مغل بادشاہ چونکہ محرم میں سفر نہیں کرتے تھے اس لئے سارا مہینہ وہ یہیں رہا ۔۔۔ اس دوران قلعہ میں مجالس کا اہتمام بھی ہوا اور دس محرم کو شبیہہ بھی برآمد ہوئی جس کا سلسلہ اب بھی جاری ہے ۔۔۔۔ عاشورہ کے جلوس تو پہلے سے ہي نکل رہے تھے ۔ بعد ازاں تعزيوں کو ان کا حصہ بنا ديا گيا ۔۔ ليکن تعزيہ ہندوستان کے ايک سے دوسرے سرے تک کيونکر پہنچا ۔۔ اس کي کوئي تاريخ مرتب نہيں ہوسکتي ۔۔ البتہ ديکھتے ہي ديکھتے ۔۔ تعزيہ ۔۔ جلوس عاشورکا اہم جزوبن گيا ۔ کچھ وقت اورگزرا توبرہمنوں نے اپنے علم کا سہارا لے کرحضرت امام حسين کي صداقت کي تصديق کردي جس کي وجہ سے ہندو عورتيں تعزيے کے سامنے چوک بھرنے لگيں ۔۔ ہندوعورت کي عقيدت کي انتہا ديکھيے کہ وہ شب عاشور سےعصرعاشورتک تعزيے کے سامنے کھڑي رہتي ۔۔۔ وہ اس روزبرت رکھتي اوراسے تعزيہ دفن ہونے کے بعد ۔۔ دہل پربيٹھ کراورفاطمة الزہرا کو بيٹے کي موت کا پرسا دے کرتوڑتي تھي ۔ بعض لوگوں کا دعويٰ ہے کہ عزاداري بدعت ہے ليکن گلي کوچے گواہ ہيں کہ آج بھي محرم کا چاند افق مغرب پرطلوع ہوتے ہي ہرطرف " ہائے حسين ۔۔ ہائے حسين " کي آوازيں سنائي دينے لگتي ہيں ۔ يہ شورماتم کسي مخصوص ملک يا خطے کا ورثہ نہيں بلکہ پورا عالم اسلام اس سوگ ميں ڈوب جاتا ہے اورجہاں جہاں غم گساران حسين بستے ہيں وہاں مجلس وماتم شروع ہو جاتا ہے ۔ ليکن تعزيے صرف پاکستان اورہندوستان ميں ہي رکھے جاتے ہيں ۔ دامن ہمالہ سے راس کماري اوربنگال سے مکران تک ہرجگہ امام بارگاہيں سج جاتي ہيں اورمقامي رسم ورواج کے مطابق ضريح يا تعزيے رکھ ديے جاتے ہيں ۔ عراق وايران اوراسي طرح کے دوسرے ممالک ومقامات پرشبيہ ، علم اورماتمي جلوس برآمد ہوتے ہيں جو قمع اورزنجيرسے ماتم کرتے اورخود کو لہولہان کرليتے ہيں ۔ اس مظاہرے کا مطلب صرف يہ ہوتا ہے کہ اگرہم کربلا ميں ہوتے تو اقتدائے امام ميں اسي طرح خون بہا کرجہاد کرتے ۔ ان جلوسوں ميں امام حسين کا ذوالجناح اورحضرت عباس کا علم بھي ہوتا ہے جبکہ بعض جگہوں پرتابوت بھي جلوس کا حصہ بنايا جاتا ہے ۔۔۔۔ محرم پھرشروع ہوچکا ہے ۔ کربلا کي تپتي ريت پھراپنے مہمانوں کو آواز دے رہي ہے ۔ جلوس عاشورہ کو ديکھيے ۔۔ المناک اورکرب انگيزمنظرہے ۔ سياہ پوش اوربکھرے بالوں والے ماتمي دستے ۔۔ گردوغبارميں اٹے۔۔ اور سينہ کو بي کرتے ہوئے عزاداران حسين ۔۔ کيا انہيں ديکھ کرآپ کو وہ قافلہ ياد نہيں آرہا ۔۔ جسے رسيوں سے باندھ کر کربلا سے کوفہ لے جايا گيا تھا ۔ ذرا غور سے ديکھيے اورسنيے۔ شايد کہيں سے سکينہ کي آواز بھي سنائي دے جائے ۔ وہ بے چاري معصوم تو کربلا سے کوفے تک سنگ دلوں کے طمانچے کھاتي گئي تھي ۔ اس نے اپنے چچا کو پکاراتھا ۔۔ اسي چچا کو جو اس کے ليے پاني لينے گئے ليکن لوٹ نہ سکے۔ شايد اس نے اپنے بابا کو بھي آوازدي ہو۔۔ ليکن اب بابا کي وہ چھاتي کہاں ۔۔۔ اب تو صرف ماتم ہے ۔۔۔ جو رہتي دنيا تک ہوتا رہے گا ۔۔۔

وقت گزراہے مگر اب تک جواں ہے کربلا
آل احمد کے لہو سے ضوفشاں ہے کربلا

Telecast-ed as documentary at the eve of Aushara Muharram in 2007 on SAMAA TV

It's only fair to share...Share on FacebookShare on Google+Tweet about this on TwitterShare on LinkedIn