اب کیا ہو گا

March 29, 2017
محل سے مرقد تک ، مزدور بے نام و نشاں ہی رہا
August 30, 2018

https://www.humnews.pk/blogs/42010/چند دنوں کے دوران وطن عزیز میں بعض ایسے واقعات ہوئے جو انہونے نہیں تو غیر متوقع ضرور تھے لیکن طے ہے کہ ان کے اثرات تا دیر رہیں گے اور ممکن ہے کہ خوش آئند بھی ہوں البتہ اس کا فیصلہ وقت پر چھوڑ دیا جائے تو بہتر ہو گا۔
2013 میں سیاسی پارٹیاں اسمبلیاں تحلیل ہونے اور نئے انتخابات کے انعقاد کے لیے متفقہ نگراں وزیراعظم کا انتخاب نہ کر سکیں اور معاملہ آئین کے مطابق پارلیمانی کمیٹی سے ہوتا ہوا الیکشن کمیشن تک پہنچا جس نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے میر ہزار خان کھوسو کو ملک کا چھٹا نگراں وزیراعظم نامزد کیا تھا۔
صورت حال اس بار بھی چنداں مختلف نہ تھی، گو حکمران جماعت نے نگراں وزیراعظم کا نام تجویز کرنے کا اختیار اپنی سیاسی مخالف پیپلزپارٹی کو سونپ رکھا تھا لیکن وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کے مابین متعدد بے نتیجہ ملاقاتوں کے بعد نہ صرف سیاسی تجزیہ کاروں بلکہ خود فیصلہ کرنے والوں نے بھی یہ کہنا شروع کر دیا تھا کہ معاملہ پارلیمانی کمیٹی میں ہی جائے گا۔
سید خورشید شاہ تو اس حد تک پریقین تھے کہ انہوں نے کمیٹی کے لیے سید نوید قمر اور شیری رحمان کے نام بھی تجویز کر دیے تھے لیکن پھر یکایک حالات نے پلٹا کھایا اور پیر کے روز وزیراعظم، قائد حزب اختلاف اور اسپیکر قومی اسمبلی نے مشترکہ پریس کانفرنس میں جسٹس ریٹائرڈ ناصرالملک کو نگراں وزیراعظم نامزد کرنے کا اعلان کر دیا۔
جب مسلم لیگ ن کی جانب سے کہا گیا کہ پیپلز پارٹی جو نام تجویز کرے گی اسی پر اتفاق کیا جائے گا تو سیاسی مبصرین نے قرار دیا تھا کہ یہ نوازشریف کی جانب سے پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو خوش کرنے اور ماضی میں کیے جانے والے بعض فیصلوں کی تلخیاں کم کرنے کی ایک کوشش ہے جو عرصہ دراز سے دونوں رہنماؤں کی بات چیت اور ایک دوسرے پر الزام تراشیوں کی صورت پوری قوم کے سامنے تھے۔
کچھ ایسی ہی صورت تحریک انصاف کے ساتھ تھی کیونکہ عمران خان نے بائیس تئیس سالہ سیاسی کیرئیر میں اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد ہمیشہ الگ ہی بنائی ہے۔ سیاسی مبصرین پی ٹی آئی کو سیاست کا منہ زور گھوڑا کہتے ہیں، عمران خان بات بے بات دھمکی دیتے ہیں کہ کسی کو اگر چھینک بھی آئی تو وہ سڑکوں پر ہوں گے اس لیے ان سے بعید نہ تھا کہ وہ نگراں وزیر اعظم کی تقرری قبول کرنے اور انتخابات لڑنے کے بجائے اپنے کارکنوں سمیت سڑکوں پر ہوتے تاکہ جاتی امرا فتح کر سکیں۔
یار لوگوں کو یہ بات عجیب لگے گی لیکن عمران خان کسی وقت کچھ بھی ایسا کر سکتے ہیں جو کسی کے وہم و گمان میں نہ ہو۔
بہت سے دوسرے سیاسی مبصرین اور تجزیہ کاروں کی طرح میرے ایک نہایت محترم اور سینئر ساتھی انہیں مستقبل کا وزیر اعظم قرار دیتے ہیں حالانکہ خود عمران خان اپنے انداز سیاست سے آخری حد تک یہ کوششیں کر چکے ہیں کہ وزیراعظم کی شیروانی ان سے دور ہی رہے لیکن غیر متوقع طور پر دوسری تمام سیاسی جماعتوں کی طرح تحریک انصاف نے بھی نگراں وزیراعظم کی تقرری کو قبول کر لیا ہے اس لیے ایک طرف عمران خان کی نئی مہم جوئی کا خطرہ ٹل گیا ہے تو دوسری طرف یہ امکان بھی پیدا ہو گیا ہے کہ 2013 کی طرح اس بار 35 پنکچرز کی بات نہیں ہوگی۔


اسی طرح کا ایک معجزہ پنجاب میں بھی ہوا تھا جہاں تحریک انصاف کی جانب سے ناصر محمود کھوسہ کو نگراں وزیر اعلیٰ نامزد کیا گیا لیکن بعد ازاں اس فیصلے کو واپس لے لیا گیا۔ ناصر کھوسہ گو ن لیگ سے بھی یاد اللہ رکھتے تھے لیکن ان کا نام حزب مخالف کی جانب سے سامنے آیا تھا۔
لوگ باگ اسے تحریک انصاف کی کامیابی قرار دے رہے تھے لیکن میں ذاتی طور پر اسے نواز شریف کی سیاسی چال سمجھتا ہوں۔ ناصر کھوسہ کی نامزدگی کے ذریعے سابق وزیراعظم نے اپنے سیاستدان ہونے کا ثبوت دیا تھا کیونکہ ناصر کھوسہ کا خاندانی پس منظر انہیں انتخابات کے بعد کی سیاست کا رخ متعین کرنے میں بے حد مدد اور کمک فراہم کرتا لیکن عمران خان کے تازہ ترین یوٹرن نے ان سے یہ موقع بھی چھین لیا۔
ن لیگ نے ایک اور کامیابی انتخابات کی تاریخ کے تعین سے حاصل کی ہے۔ درون خانہ کچھ بھی ہو لیکن یہ حقیقت تھی کہ مسلم لیگ ن نگراں وزیراعظم کے ہاتھوں انتخابات کی تاریخ کا تعین نہیں چاہتی تھی۔ اس کی وجہ بے یقینی تھی یا بد اعتمادی لیکن ثابت ہو گیا کہ حکمران جماعت اپنے تئیں انتخابی کھونٹے مضبوط رکھنا چاہتی ہے تاکہ کل کو خدانخواستہ اگر کوئی غیریقینی صورت حال پیدا ہو بھی جائے تو وہ خم ٹھونک کر کہہ سکے کہ ہم تو انتخابات کی تاریخ تک طے کر کے ایوانوں سے نکلے تھے۔
یہ حکمت عملی تھی یا پیش بندی لیکن اس وقت مسلم لیگ اپنے مقاصد میں کامیاب نظر آتی ہے۔ایک اور کامیابی جو بہر صورت مسلم لیگ کے اعمال نامے میں ہی لکھی جائے گی، وہ ہے فاٹا انضمام بل جس کی منظوری کے بعد اب علاقہ غیر، علاقہ خیر میں تبدیل ہو گیا ہے۔

قبائلیوں کا 70 سالہ پرانا مطالبہ مان لیا گیا اور وہ باضابطہ طور پر پاکستان کے آئینی شہری قرار دے دیے گئے۔ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی طرح قومی شناختی کارڈ انہیں بھی جاری کیے جاتے تھے لیکن مذکورہ علاقوں کے برعکس انہیں کوئی آئینی حق حاصل نہ تھا۔
مسلم لیگ ن پانچ سال تک محمود خان اچکزئی اور مولانا فضل الرحمان کی اقتدا میں کھڑی فاٹا کے عوام کو محض طفل تسلیاں دیتی رہی۔ اس دوران فاٹا اور قبائلیوں پر ایک نہیں بلکہ ظلم و ستم کے سینکڑوں پہاڑ ٹوٹے، کبھی وہ طالبان کے محکوم رہے تو کبھی امریکی ڈرونز کا نشانہ بنے، کبھی انہوں نے اپنے ہاتھوں اپنے عزیزوں کی لاشیں اٹھائیں تو کبھی گھر سے بے گھر ہوئے لیکن پاک فوج کے مثالی آپریشن ضرب عضب اور آپریشن ردالفساد کی بدولت وہ ایک بار پھر اپنے گھروں کو خوشیوں کا گہوارہ بنانے میں کامیاب ہوئے۔
فاٹا میں ترقیاتی کام بھی فوج کی نگرانی میں پایہ تکمیل کو پہنچے اور اب بھی پاک فوج ہی ان کے بیشتر دکھوں کا مداوا کرتی نظر آتی ہے لیکن آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ایک سے زائد بار یہ کہہ چکے ہیں کہ فوج نے اپنے حصے کا کام کر دیا ہے اور اب سول انتظامیہ کو آگے آنا چاہئیے لیکن ہمارے سیاستدان ہمیشہ کی طرح یہاں بھی اپنے مفادات کی جنگ ہی لڑتے رہے۔
ممکن ہے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت فاٹا کے بارے میں کسی حتمی فیصلے کے بغیر ہی رخصت ہو جاتی لیکن الہٰ دین کے چراغ نے سب مشکلیں آسان کر دیں۔ جب نون لیگ نے دیکھا کہ اچکزئی اور مولانا صاحب کی اقتدا میں ادا کیے گئے فرائض اور نوافل ضائع ہونے جارہے ہیں تو اس نے کشتیاں جلا کر طارق بن زیاد کی تقلید کا فیصلہ کر لیا کیونکہ اپنے اقتدار کی مدت وہ پوری کرنے جا رہی تھی اور نہیں لگتا تھا کہ فاٹا انضمام کے مخالفین آئندہ انتخابات میں ان کے لیے زیادہ سود مند ثابت ہو سکیں گے چنانچہ انہوں نے یہ کڑوا یا میٹھا گھونٹ پینے میں ہی عافیت جانی۔
پھر 24 مئی کا وہ تاریخ ساز دن آ گیا جب قومی اسمبلی نے فاٹا انضمام بل منظور کر لیا۔ اس روز ایک معجزہ یہ بھی ہوا کہ عالی مرتبت عمران خان نے بھی اپنے عقیدت مندوں کو شرف دیدار بخشا اور قومی اسمبلی تشریف لائے کیونکہ مستقبل میں فاٹا سے ووٹ تو انہوں نے بھی لینے ہیں اور ان کی غیر حاضری سے فاٹا والوں کے علاوہ کچھ اور طاقتوں کو بھی منفی پیغام جاتا۔ خیر وجہ کچھ بھی ہو، یہ عمران خان کے چند صائب فیصلوں میں سے ایک تھا۔
قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ اور پھر خیبر پختونخوا اسمبلی سے بل منظور ہوا تو صدر مملکت نے اس پر دستخط کر کے فاٹا کا نہ صرف وجود ختم کر دیا بلکہ یہاں کے باسیوں کو انگریز کے کالے قانوں ایف سی آر سے بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نجات دلا دی۔
سیاست سے ہٹ کر ایک اور اہم واقعہ انٹر سروسز انٹیلی جنس یعنی آئی ایس آئی کے سابق ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل اسد درانی کی وہ کتاب تھی جو انہوں نے اپنے سابق بھارتی ہم منصب امرجیت سنگھ دلت کے ساتھ مشترکہ طورپر لکھی تھی لیکن حسن اتفاق سے اس پر سب سے پہلا تبصرہ ایک سیاستدان نے ہی کیا۔


مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف نے ممبئی حملوں پر اپنے بیان کے ردعمل میں قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کو ہدف تنقید بناتے ہوئے اس کتاب کا ذکر کیا جبکہ سینیٹ کے سابق چیئرمین رضا ربانی نے کہا کہ ایسی کتاب کوئی سیاستدان لکھتا تو اب تک اس پر غداری کا فتویٰ لگ چکا ہوتا۔
اس سے پہلے کہ معاملہ مزید اچھالا جاتا، پاک فوج نے ایک بار پھر وطن کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی محافظ اول ہونے کا ثبوت دیا اور دی اسپائی کرونیکلز نامی اس کتاب پر اپنے سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کتاب کے مصنف کو وضاحت کے لیے جی ایچ کیو بلا لیا۔
آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کے حکم پر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی کے خلاف کورٹ آف کنڈکٹ تشکیل دے دی گئی ہے جس کی سربراہی لیفٹیننٹ جنرل رینک کے آفیسر کریں گے، اس کے ساتھ ہی اسد درانی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں بھی ڈال دیا گیا ہے تا کہ وہ ملک چھوڑ کر نہ جا سکیں۔ اس فوری اقدام پر پاک فوج یقینی طورپر تحسین کی حقدار ہے کیونکہ اس نے ایک ایسے شخص کے ساتھ بھی کوئی رعایت نہیں کی جو کبھی اسی کا حصہ رہا تھا اور یہ اس امر کا ثبوت ہے کہ قومی مفاد سے عزیز کچھ نہیں۔
لیکن شاید سیاست کسی بھی اقدام سے مطمئن نہ ہونے کا نام ہے کیونکہ سابق وزیراعظم نوازشریف نے یہ تو کہا ہے کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درانی نے بہت اہم گفتگو کی ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ مشاورت کے ساتھ نیشنل انکوائری کمیشن بننا چاہیے جس میں پارلیمنٹ، سول سوسائٹی اور عدلیہ بھی شامل ہو جبکہ اسٹیبلشمنٹ بھی کمیشن کا حصہ ہو سکتی ہے۔ بقول ان کے صرف ایک شخص کے خلاف انکوائری کا فائدہ نہیں، پورے نیٹ ورک کے خلاف انکوائری ہو، جس نے یہ پالیسیاں بنائیں اور انہیں عملی جامہ پہنایا، اس کو دیکھنا چاہیے، ملبہ ایک بندے پر نہیں ڈالا جا سکتا۔
نواز شریف کی گفتگو تو ایک ایسے شخص کی گفتگو کہی جا سکتی ہے جو خود کو دیوار سے لگا سمجھتا ہو لیکن ان ذی ہوش اور آزاد افراد کو کیا کہیں جو یہ سب دیکھنے اور سمجھنے کے باوجود پوچھتے ہیں کہ اب کیا ہو گا۔

https://www.humnews.pk/blogs/42010/

It's only fair to share...Share on FacebookShare on Google+Tweet about this on TwitterShare on LinkedIn