مارلین منرو، خلائی مخلوق اور نواز شریف

محل سے مرقد تک ، مزدور بے نام و نشاں ہی رہا
August 30, 2018
ہم بابو رہے نہ بندر
August 30, 2018

اپنے عہد کی سحر انگیز اداکارہ، گلوکارہ اور ماڈل مارلین منرو اپنی موت کے 56 سال بھی فیشن کی دنیا میں ایک علامت کی حیثیت رکھتی ہے۔ یکم جون 1926 کو ایک عام سے گھرانے میں پیدا ہونے والی مارلین کو باپ کا نام تو نہ مل سکا لیکن اپنے عہد شباب میں وہ نہ صرف شہرت کی بلندیوں تک پہنچی بلکہ امریکی اقتدار کے ایوان بھی اس کے حسن کی چکا چوند سے جگمگائے بغیر نہ رہ سکے۔

مارلین منرو پانچ اگست 1962 کو بہت سی کہانیاں چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہو گئی۔ رپورٹس کے مطابق اس کی موت زیادہ مقدار میں ممنوعہ نشہ آور ادویات کھانے سے ہوئی جس کی وجہ سے اسے خود کشی قرار دیا گیا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جادوئی شخصیت کی مالک مارلین مرنے کے بعد بھی افسانہ ہی رہی۔ اس کی موت آج بھی اسرار کے پردوں میں لپٹی ہوئی ہے کیونکہ ایک بڑا طبقہ اس کی موت کو قتل قرار دیتا ہے۔

29 اکتوبر 2017 کو ایک ممتاز امریکی صحافی ربیکا ہیرنگٹن کے شائع ہونے والے مضمون کے مطابق اس کی موت کے بارے میں تازہ ترین تنازعہ اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نومبر 1963 میں قتل ہونے والے امریکی صدر جان ایف کینیڈی کے بارے میں 2800 صفحات پر مشتمل ان خفیہ دستاویزات کی اشاعت کی منظوری دی جن میں جان ایف کینیڈی کے قتل کے حوالے سے اہم ترین انکشافات شامل تھے۔

ان دستاویزات کے مطابق 1964 میں اس وقت کے اٹارنی جنرل اور مقتول صدر کے بھائی رابرٹ بوبی کینیڈی کو ایف بی آئی نے فرینک کیپل نامی ایک تحقیقاتی صحافی کی ستر صفحات پر مشتمل ایسی زیر طبع کتاب کے بارے میں آگاہ کیا جس میں نہ صرف مارلین منرو سے اس کے مبینہ معاشقے کا تذکرہ تھا بلکہ اسے مارلین منرو کے قتل کا ذمہ دار بھی ٹھہرایا گیا تھا۔

تمام تر کوششوں کے باوجود امریکی خفیہ ادارہ اس کتاب کی اشاعت نہ روک سکا اور امریکیوں سمیت پوری دنیا کو پہلی بار علم ہوا کہ ہالی ووڈ کی اس حسین ساحرہ کی امریکی ایوان ہائے اقتدار میں کتنی رسائی تھی۔

برطانیہ کے ایک موقر جریدے ‘ دی سن ’ نے آٹھ اپریل 2018 کو جوزی گرفتھس کی ایک رپورٹ شائع کی۔

رپورٹ میں اعتراف کیا گیا کہ مارلین منرو کی موت کی وجوہات اب تک اسرار کے پردوں میں لپٹی ہوئی ہیں لیکن ساتھ ہی یہ حیران کن انکشاف بھی کیا گیا کہ اداکارہ کو امریکی حکومت کی ایما پر قتل کیا گیا کیونکہ اس نے ‘ خلائی مخلوق ’ کے بارے میں اہم رازوں سے پردہ اٹھانے کی دھمکی دی تھی۔

اخبار کے مطابق مارلین نے یہ دھمکی امریکی صدر جان ایف کینیڈی اور ان کے سگے بھائی رابرٹ بوبی کینیڈی سے اپنے ناکام معاشقوں کے بعد دی کیونکہ دونوں بھائیوں نے مارلین سے اپنے مبینہ تعلقات بیک وقت ختم کر لیے تھے۔

اخبار کے مطابق مارلین منرو خواہش مند تھی کہ بوبی کینیڈی اپنی بیوی ایتھل کو طلاق دے کر اس سے شادی کر لے لیکن جب ایسا نہ ہو سکا تو اس نے انتہائی قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا اور ماری گئی۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکیوں اور برطانویوں کے لئے خلائی مخلوق یا اس کا تذکرہ نیا نہیں۔ درجنوں شہادتیں ہیں کہ امریکہ کے مختلف علاقوں میں عجیب الخلقت مخلوق، یو ایف اوز ( ان آئیڈینٹیفائیڈ آبجیکٹس ) یا خلائی طشتریاں دیکھی گئیں، ان کی ویڈیوز بھی بنیں اور ماہرین نے انہیں جعلی بھی قرار دیا لیکن امریکی اور مغربی معاشرے سے خلائی مخلوق ختم ہوئی نہ اس کا تذکرہ بند ہوا۔

2030 میں موجود ہونے کے دعویدار ایک اطالوی ٹائم ٹریولر رومن نے انکشاف کیا ہے کہ گرے نامی خلائی مخلوق اس وقت بھی زمین پر موجود ہے لیکن ہمیں دکھائی نہیں دیتی تاہم یہ 2018 سے2028 کے دوران کسی بھی وقت ‘ سایوں ’ سے نکل کر ہمارے سامنے آ جائے گی۔

رومن نے یہ نہیں بتایا کہ خلائی مخلوق کس علاقے میں نمودار ہوگی لیکن محسوس یہ ہو رہا ہے کہ مارلین منرو کی موت کا سبب بننے والی خلائی مخلوق پاکستان میں منظر عام پر آ گئی ہے۔

حیران کن طور پر اسے دیکھنے کا دعویدار کوئی سائنس دان یا ماہر فلکیات نہیں بلکہ پاکستان میں اس کی دریافت کا سہرا مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کے سر ہے جنہوں نے چند روز پہلے ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ آئندہ انتخابات میں ان کا مقابلہ آصف زرداری یا عمران خان سے نہیں بلکہ خلائی مخلوق سے ہو گا۔

الہٰی خیر، ایسا انقلاب تو پہلے کبھی دیکھا نہ سنا کہ پاکستانی سیاست اچانک ہی اصطبل، گھوڑوں اور گدھوں کی خریدوفروخت سے نکل کر خلائی مخلوق تک جا پہنچی ہو۔

نواز شریف کی اس دریافت کو دوسرے سیاستدانوں نے ہاتھوں ہاتھ لیا اور اس وقت ‘ خلائی مخلوق ’ پاکستانی سیاست کا مقبول ترین موضوع و محور بن چکی ہے۔

پچھلے پانچ سال گواہ ہیں کہ ن لیگ کی کسی بھی بات کا جواب دینا پاکستان تحریک انصاف کے لیے جنت کی کنجی سے کم نہیں اور فواد چوہدری کو تو تنخواہ ہی اس کی ملتی ہے چنانچہ نواز شریف کی بات ابھی منہ میں ہی تھی کہ فواد چوہدری بول پڑے اور انہوں نے ‘ نا اہل وزیراعظم ’ کو یہ یاد دلانے میں قطعی تاخیر نہیں کی کہ انیس سو اناسی میں بطور کونسلرسیاست میں ان کا پہلا انتخاب اسی خلائی مخلوق نے کیا تھا۔

پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کو نواز شریف کی خلائی مخلوق چھانگا مانگا کے جنگل میں نظر آئی چنانچہ انہوں نے اپنے کل کے حلیف اور آج کے سب سے بڑے سیاسی حریف کو یہ یاد دلانے میں کوئی تکلف نہیں کیا کہ خلائی مخلوق لاہور کے قریب واقع اس چھوٹے سے جنگل میں بھی نواز شریف کے ساتھ تھی اور تب سے اب تک کسی بھی مرحلے پر اس نے سابق وزیر اعظم کو تنہا نہیں چھوڑا۔

آصف زرداری کے اپنے بھی بہت سے دکھ ابھر کر سامنے آگئے اور انہوں نے یاد دلایا کہ خلائی مخلوق نہ صرف نواز شریف کو برسر اقتدار لائی بلکہ انہوں نے اسی خلائی مخلوق کا ہاتھ پکڑ کر پیپلز پارٹی کو شکست دی اور ان سے بے وفائی کی۔ آصف زرداری نے بعض ایسے جرائم بھی خلائی مخلوق کی جھولی میں ڈال دیئے جو شاید اس کی ‘ ڈومین ’ میں بھی نہیں آتے۔

عوامی جلسوں سے نکل کر خلائی مخلوق ایوان وزیر اعظم اور پارلیمنٹ بھی جا پہنچی اور شاہد خاقان عباسی نے اپنے سیاسی مرشد کا بیانیہ آگے بڑھانے میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے ارکان اسمبلی کو الوداعی عشائیہ دیا تو وزیراعظم شاہد خاقان عباسی یہاں بھی میڈیا سے گفتگو میں خلائی مخلوق کا ذکر نہیں بھولے۔ ان کا واضح طور پر کہنا تھا کہ انتخابات نگراں حکومت نہیں، خلائی مخلوق کرائے گی، پھر بھی حصہ لیں گے۔

وزیراعظم کے بیان کے بعد پاکستان الیکشن کمیشن کا سویا ہوا شیر بھی جاگ اٹھا اور اس نے بیک جنبش قلم خلائی مخلوق اور وزیراعظم کے بیان، دونوں کو ہی غیر آئینی قرار دے دیا۔

الیکشن کمیشن کے فتوے میں حیرت کی کوئی بات نہیں کیونکہ یہ ہمارا پرانا وطیرہ ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہم تین بنیادی معاملات کا آج تک فیصلہ نہ کر سکے اور شاید نہ ہی آئندہ کر پائیں گے۔

اول، ہمارا قومی مفاد کیا ہے۔ دوم، ہمارے لیے کیا آئینی اور کیا غیر آئینی ہے اور سوم یہ کہ ہم میں سے کون مسلمان ہے اور کون کافر؟ ان میں سے کسی سوال کا کوئی جواب ہمارے پاس موجود نہیں اور اب خلائی مخلوق نے ہمارے ‘ چوتھے قومی سوال ’ کو جنم دے دیا ہے۔

بہر حال الیکشن کمیشن نے  اپنی رسمی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے وزیراعظم  کے بیان کی تردید کی اور کہا کہ یہ آئین کی روح اور الیکشن کمیشن کے مینڈیٹ کے خلاف ہے۔

کوئی اور ملک ہوتا تو شاید اس وضاحت کے بعد یہ سلسلہ دم توڑ جاتا لیکن ہماری خلائی مخلوق اس بیان کے بعد مزید جوان ہو گئی۔ اب صورت حال یہ ہے کہ ہماری تمام سیاسی قیادت اس دوشیزہ کے کاکل و رخسار اور زلف گرہ گیر کی اسیر ہو چکی ہے۔ کوئی نہ بھی پوچھے تو پھر بھی ہمارے سیاسی رہنما کسی نہ کسی بہانے خلائی مخلوق کا ذکر نکال ہی لیتے ہیں۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے پہلے کہا کہ 2013 میں خلائی مخلوق نے آر اوز کی شکل میں انتخابات کرائے لیکن اب انہوں نے اپنے بیان میں ترمیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابات پاکستان میں ہوں یا کسی اور ملک میں، خلائی مخلوق تو لازمی ہوتی ہے۔

امیر جماعت اسلامی سراج الحق تو یہ کہہ کر کنی کترا گئے کہ جنہوں نے خلائی مخلوق کا تذکرہ کیا ہے انہی سے اس کا حلیہ بھی پوچھ لیں لیکن چوہدری شجاعت نے نواز شریف کو للکارا ہے کہ ہمت ہے تو بتائیں کہ خلائی مخلوق کیا ہے۔ انہوں نے اشارہ بھی دیا کہ اس کا مطلب فوج ہے یا وہ یعنی نواز شریف فوج کو بدنام کرنا چاہتے ہیں۔

نواز شریف یا ان کے کسی ترجمان نے اب تک تو چوہدری شجاعت کی للکار کا جواب نہیں دیا اور نہ ہی آئندہ آنے کا امکان ہے۔

سیانے کہتے ہیں کہ کبھی کبھی بچے بھی نہایت عقلمندی کی بات کر جاتے ہیں اور یہی عقلمندی جانے انجانے میں ہمارے بلاول بھٹو زرداری سے سرزد ہو گئی ہے۔

لاہور میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے خلائی مخلوق کا ذکر کرنا تو وہ بھی نہیں بھولے لیکن ان کا کہنا ہے کہ اگرسابق وزیراعظم نواز شریف سیاسی لوگوں کے بجائے  ‘خلائی مخلوق’ کو اپنے مدمقابل سمجھتے ہیں تو راکٹ پکڑیں اور خلا میں چلے جائیں کیونکہ اس جہاں میں تو جیتے جاگتے انسان بستے ہیں۔

بلاول بھٹو کا مشورہ تو نہایت صائب ہے لیکن ہمارے سیاست دانوں کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ کوئی آگ میں کودنے کا کہے تو لمحے بھر کی تاخیر نہیں کرتے اور اگر تجویز بہتر ہو اور نیک نیتی کے ساتھ دی گئی ہو تو جواب آتا ہے کہ ساتھیوں سے صلاح مشورہ کر کے آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے۔

لیکن نواز شریف سے یہ جواب آنے کی توقع بھی نہیں کیونکہ اگر وہ کسی کے مشورے ماننے کا مزاج رکھتے تو ان کے دیرینہ دوست اور رفیق خاص چوہدری نثار علی خان پریس کانفرنسوں میں اپنی دکھ بھری داستانیں یہ کہہ کر نہ سناتے کہ زندگی بھر نواز شریف کا سیاسی بوجھ اٹھایا، اب جوتیاں نہیں اٹھا سکتا۔ یہ بات البتہ انہوں نے کھل کر کہی ہے کہ خلائی مخلوق کی بات سے ڈان لیکس کو دہرایا جا رہا ہے۔ یعنی بات وہیں پر آپہنچی جہاں سے شروع ہوئی تھی۔

دیکھنا یہ ہے کہ نواز شریف اپنی فطرت کے برخلاف اب کسی کے مشورے پر عمل کرتے ہیں یا نیرو کی طرح جلتے ہوئے روم کے سامنے بدستور اپنی بانسری ہی بجائیں گے کیونکہ ان کے سامنے راستے دو ہی ہیں۔

مارلین منرو کے نقش قدم پر چل پڑیں یا بلاول بھٹو زرداری کی بات مان لیں کیونکہ خلائی مخلوق نے اگر واقعی ان کا گھر دیکھ لیا ہے تو عوام کا جم غفیر یہ نعرہ تو لگائے گا کہ ‘ ووٹ کو عزت دو ’ لیکن انہیں ووٹ شاید نہ دے۔

https://www.humnews.pk/blogs/31979/

It's only fair to share...Share on FacebookShare on Google+Tweet about this on TwitterShare on LinkedIn