ہم چوں ما ڈنگرے نیست

ہم بابو رہے نہ بندر
August 30, 2018

فارسی کی ایک کہاوت ہے ‘ہم چوں ما دیگرے نیست’ یعنی مجھ جیسا کوئی نہیں، عام طور پر اسے متکبرانہ انداز میں بولا جاتا ہے لیکن یہاں تکبر مقصود ہے نہ غرور، بلکہ حالات کی مناسبت سے اس میں قدرے ترمیم کی گئی ہے جس کے لیے فارسی بانوں سے بہ طور خاص معذرت۔

‘ڈنگر’ پنجابی زبان کا لفظ ہے اور اس کے معنی ہیں مویشی، جانور، بے وقوف۔ ویسے تو ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالنا ہمارے سیاست دانوں کا محبوب مشغلہ ہے لیکن آج کل ملک میں جس طرح غداری کے فتوے جاری کیے جا رہے ہیں ان کے تناظر میں ‘دیگرے’ کے بجائے ‘ڈنگرے’ ہی زیادہ بہتر، مستحسن اور موزوں لفظ  محسوس ہوتا ہے کیونکہ ہمارے رہنما دوسروں کے لیے یہ لفظ ادا کرتے ہوئے بھول جاتے ہیں کہ یہ لقب کل ان کے لئے بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ یہی ان کی وہ بے وقوفی ہے جس نے دیگرے کو ڈنگرے میں تبدیل کرنے پر اکسایا۔

گئے دنوں میں صاحب طرز مزاح نگار شقیق الرحمان کی ‘حماقتیں’ اور ‘مزید حماقتیں’ پڑھنے کا اتفاق ہوا تو پہلا خیال یہی گزرا کہ ایسا صرف کتابوں میں ہی ہوتا ہے لیکن سیاست کو قریب سے دیکھنے کے بعد احساس ہوا کہ اصل اور عملی حماقتیں تو ہمارے سیاستدان کرتے ہیں۔

اسی طرح کی ایک حماقت آج کل زیر بحث ہے اور دو ہفتے گزرنے کے باوجود گرد ہے کہ بیٹھنے کا نام ہی نہیں لیتی۔ نواز شریف کو نااہل لکھتے ہوئے عجیب سا لگتا ہے لیکن کیا کہیے کہ وہ آئے روز ایسے شگوفے چھوڑتے ہیں کہ ان کی نااہلی کے فیصلے پر تعجب رفتہ رفتہ کم ہوتا جا رہا ہے۔ تازہ ترین حماقت بھی چار بار نااہل قرار پانے والے نواز شریف کا ہی ایک ارشاد ہے۔

جولائی 2017میں وزارت عظمیٰ سے ہٹائے جانے کے بعد نواز شریف نے جو مؤقف اپنایا، اسے ان کا بیانیہ قرار دیا گیا لیکن محسوس ہوتا ہے کہ اب یہ ان کا بیانیہ نہیں پریشانیہ بن چکا ہے۔

ملتان میں ایک انگریزی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے 2008 میں رونما ہونے والے ممبئی حملوں کے بارے میں جو گوہر افشانی فرمائی اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی نااہلی کے دکھ میں اس ملک کے مفادات کو بھی ثانوی حیثیت دے چکے ہیں۔


ایسا ہرگز نہیں کہ نواز شریف اس موضوع پر بات کرنے والے پہلے سیاستدان ہیں لیکن جس طرح انہوں نے اس کی براہ راست ذمہ داری پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کی وہ کسی طور بھی قابل قبول نہیں کیونکہ پاکستان سختی سے غیر ریاستی عناصر کی حوصلہ شکنی کی پالیسی پر کاربند ہے اور وہ خود بھی اس کے نہ صرف گواہ ہیں بلکہ اس کے مبلغ بھی رہ چکے ہیں۔

ایسے میں ممبئی حملوں کے حوالے سے ان کے بیان کو صرف افسوسناک ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ شاید نواز شریف نوشتہ دیوار پڑھ نہیں سکے یا انہوں نے حسب عادت و روایت اپنے سینئر مشیروں کو در خوراعتنا نہیں سمجھا اور مجھے کیو ں نکالا کی بانسری بجاتے ایوان وزیر اعظم سے نکلے اور تان ممبئی حملوں پرلا توڑی۔

نواز شریف کے اس انٹرویو نے ایک جانب بھارت میں شادیانے بجوا دیے تو دوسری جانب پاکستان کی سیاسی اور عسکری صفوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی کیونکہ غلط یا درست ہونے سے قطع نظر یہ مؤقف ایک ایسے وقت سامنے آیا جب ایک طرف امریکہ اور بھارت مل کر ہمیں دہشت گردوں کا پشت پناہ قرار دے رہے ہیں تو دوسری جانب ہماری بہادر اور جری افواج  اپنے ہزاروں سپوتوں کی قربانی کے باوجود ملک سے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کی مکمل بیخ کنی کے لیے سینہ سپر ہیں۔

تمام پاکستانی بلا شک و شبہ اپنی فوج کو ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی محافظ تصور کرتے ہیں اس لئے بادی النظر میں نواز شریف کا یہ بیان اس نقطہ نظر سے مطابقت نہیں رکھتا جس کی بنیاد پر پاک فوج نے دہشت گردی کے خلاف اپنی حکمت عملی ترتیب دے رکھی ہے اور اس پر عمل پیرا بھی ہے چنانچہ انٹرویو کی اشاعت کے اگلے ہی روز قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں نواز شریف کے بیان کو سختی سے مسترد کر دیا گیا ور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان کسی دوسرے ملک کے خلاف اپنی سر زمین استعمال نہیں ہونے دے گا۔

ممبئی میں یہ حملے 26 نومبر 2008 کو شروع ہوئے اور 29 نومبر کو اجمل قصاب کی گرفتاری پر ان کا خاتمہ ہوا۔ بھارت نے حسب روایت پہلے دن ہی پاکستان کو ان حملوں کا ذمہ دار قرار دے دیا تھا اور کہا تھا کہ حملہ آور نہ صرف پاکستان سے آئے بلکہ انہیں کنٹرول بھی وہیں سے کیا جا رہا تھا۔

پاکستان نے اس کی سختی سے تردید کی اور 2009  کے آغاز میں ہی ان حملوں کے الزام میں سات افراد کو گرفتار کر کے ان پر باقاعدہ مقدمہ بھی چلانا شروع کر دیا لیکن بھارت اپنی عادت کے مطابق کسی قسم کا تعاون کرنے کے بجائے وہی راگ الاپتا رہا جس کا نتیجہ دونوں ملکوں کے درمیان سوائے کشیدگی کے کچھ نہ نکل سکا۔

2012 میں اجمل قصاب کو بھارت میں پھانسی دے دی گئی جبکہ پاکستان نے 9 اپریل 2015 کو منصوبے کے مبینہ ماسٹر مائنڈ ضیا الرحمان لکھوی کو دو لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں پر رہا کر دیا لیکن لطف کی بات یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت، دونوں ملکوں میں یہ مقدمے آج تک اپنے منطقی انجام کو نہیں پہنچے۔

نواز شریف کے دھماکہ خیز انٹرویو کے بعد اس وقت کے وزیر داخلہ سینیٹر رحمان ملک اور سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے دلائل کے ساتھ اس کج روی اور سست رفتاری کی ذمہ داری بھارت پر ڈالی اور اسے عسکری اداروں کے خلاف سازش قرار دیا۔

مسلسل مطالبوں کے باوجود بھارت ان حملوں کے بارے میں پاکستان کو اعتماد میں لینے کو تیار نہ ہوا۔ گاہے بگاہے پاکستان کی جانب سے سفارتی ذرائع کے علاوہ اعلیٰ ترین سطح پر بھی کوشش کی گئی کہ بھارت ممبئی حملوں کے وہ حقائق منظر عام پر لائے جنہیں پس پشت ڈال کر نہ صرف عجلت میں اجمل قصاب کو پھانسی دی گئی بلکہ حملوں کی تحقیقات کرنے والے بعض اعلیٰ بھارتی پولیس افسران کی پراسرار اموات کی خبریں بھی میڈیا کی زینت بنیں لیکن بھارت کا مطمع نظر چونکہ ان حملوں کی آڑ میں صرف پاکستان کو بدنام کرنا تھا چنانچہ نتیجہ خیز تحقیقات کے بجائے وہ اپنے اسی مذموم پروپیگنڈا میں مصروف رہا جس کا مقصد پاکستان کو نشانہ بنانے کے سوا کچھ نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان آج بھی اپے اسی اصولی مؤقف پر کاربند ہے کہ بھارت ممبئی حملوں کے حوالے سے معلومات کا تبادلہ کرے تاکہ اس کے اصل محرکات کا پتہ چلا کر ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے۔

پاکستان کی سیاسی قیادت چونکہ متفقہ طور پر اسی مؤقف کی حامی ہے اس لیے آصف علی زرداری اور پرویز مشرف سے لے کر راولپنڈی کے نجات دہندہ شیخ رشید تک کوئی ایسا ایرا غیرا سیاسی لیڈر نہیں بچا جس نے اس بیان پر نواز شریف کو سیاسی تھپڑ مارنے سے گریز کیا ہو لیکن سب سے زیادہ دلچسپ صورت حال خود نواز شریف کی پارٹی میں دیکھنے کو ملی جس کے وہ تا حیات قائد ہیں۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں اس بیان کی سختی سے تردید کرتے ہوئے حساس اداروں اور سیاسی قیادت  کے تحفظات کو درست قرار دیا جبکہ نواز شریف کی اپنی پارٹی میں سے بھی اس بیان کے خلاف شدید ردعمل سامنے آیا۔ ن لیگ کے صدر اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے بھی کہا کہ نواز شریف کا بیان پارٹی پالیسی نہیں۔ مسلم لیگ ن کے ترجمان نے کہا کہ ہمارے قائد نے ایسا بیان دیا ہی نہیں بلکہ انہوں نے جو کچھ کہا اسے توڑ مروڑ کر شائع کیا گیا لیکن خود نواز شریف نہ صرف اس بیان پر ڈٹے رہے بلکہ بلکہ انہوں نے اس معاملے پر قومی کمیشن بنانے کا مطالبہ کر دیا۔

نواز شریف کے بیان کو تحریک انصاف نے بھی آڑے ہاتھوں لیا لیکن یہ کوئی انہونی نہیں کیونکہ عمران خان اور ان کی پارٹی کو وہ الائچی بھی فینائل کی گولی نظر آتی ہے جو نواز شریف احتساب عدالت میں پیشی کے دوران اکثر چباتے رہتے ہیں۔ تحریک انصاف نے بیان آتے ہی سابق وزیراعظم کے خلاف ایک منظم مہم شروع کر دی، شہر شہر نہ صرف مظاہرے جاری ہیں بلکہ مختلف عدالتوں اور تھانوں میں نواز شریف کے خلاف غداری کے مقدمے کے اندراج کی درخواستیں بھی دی جا رہی ہیں۔

عمران خان نے 19 مئی کو ایک بار پھر اپنی ٹویٹ میں فتویٰ دیا کہ فوج کو بدنام کرنا نواز شریف کا پرانا وطیرہ ہے۔

سندھ ہائی کورٹ میں نواز شریف کے خلاف غداری کے مقدمے کے اندراج کی سماعت بھی ہو رہی ہے۔  تحریک انصاف کے رہنما کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کرنے والے معزز جج نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ آئین کی شق چھ آئین توڑنے پر لگتی ہے، ہم نواز شریف پر یہ شق کیسے لگائیں۔ فاضل جج نے درخواست گزار کے وکیل سے کہا کہ آپ ہمیں مطمئن نہیں کر پا رہے اس لیے مزید دلائل دیں۔

قصہ مختصر، نواز شریف اس وقت ہر ایک کی نظر میں غدار وطن ہیں مگر پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے لاڑکانہ میں ایک افطار پارٹی سے خطاب میں اپنے پارٹی رہنماؤں کے نکتہ نظر کے برخلاف کہا کہ نواز شریف ان کے سیاسی مخالف ضرور ہیں لیکن وہ انہیں غدار نہیں سمجھتے۔

لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ اس نقار خانے میں طوطی کی آواز سننے کو کوئی تیار نہیں۔

نواز شریف کو تین بار اس ملک کے سب سے معتبر عہدے پر متمکن ہونے کا اعزاز حاصل ہوا اور تینوں بار انہوں نے خود ہواؤں سے لڑ کر، مقدور بھر جدوجہد کے بعد اپنا یہ منصب گنوایا۔ نواز شریف کے سیاسی کیرئیر کا مشاہدہ کیا جائے تو وہ کم و بیش ہر جگہ مشکلات کے دہانے پر نظر آتے ہیں لیکن محسوس یہ ہو رہا ہے کہ اس بار وہ توپوں کے دہانے پر ہیں جہاں سے انہیں صرف ان کی تخلیق کردہ خلائی مخلوق ہی بچا سکتی ہے ورنہ ان کا مرض انسانی کوششوں اور علاج معالجے کی حدود سے گزر چکا ہے۔

https://www.humnews.pk/blogs/38694/

It's only fair to share...Share on FacebookShare on Google+Tweet about this on TwitterShare on LinkedIn